ملک کی جنگ آزادی اورسیکولردستورسازی میں جمعیۃعلماء ہند کاقائدانہ کردارمہاتماگاندھی کے قتل کے بعد اگر فرقہ پرستی کے سرکو سختی سے کچل دیاجاتاتوملک تباہ ہونے سے بچ جاتا.
- Arshad Madani
- 3 days ago
- 8 min read

ملک کی جنگ آزادی اورسیکولردستورسازی میں جمعیۃعلماء ہند کاقائدانہ کردار
مہاتماگاندھی کے قتل کے بعد اگر فرقہ پرستی کے سرکو سختی سے کچل دیاجاتاتوملک تباہ ہونے سے بچ جاتا
جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھاتھا ملک کے موجودہ حالات وہ نہیں ہیں
آزادی کیا ہوتی ہم سے پوچھو، قربانیاں ہم نے دی ہیں
گفتگوپرمبنی (مولانا )ارشدمدنی صدرجمعیۃعلماء ہند
بات کچھ عجیب سی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد کانگریس نے اپنے دوراقتدارمیں مذہب کی بنیادپرنفرت کی سیاست پرجو لچک دارپالیسی اختیارکی اس نے ملک اورآئین دونوں کو سخت نقصان پہنچایا آج آزادی کے 76 سال بعد جس طرح آئین اورجمہوری قدروں کو برملامٹایا کیا جارہاہے اس کا تصورآزادی کے ہمارے قائدین نے بھی نہ کیا ہوگا، جن خطوط پر آزادہندوستان کی آئین کی بنیادرکھی گئی اگر انہی خطوط پر آئین کو بھی پوری ایمانداری کے ساتھ نافذ کردیاجاتاتوآج ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ، یہ بات ہم یوں ہی نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ تاریخی طورپر یہ ایک افسوسناک سچ ہے ، کانگریس کے قائدین نے نہ جانے کس خوف سے روز اول سے مذہب کی بنیادپرنفرت کی سیاست کی مخالفت پر ایک لچک دارپالیسی اختیارکی ، فرقہ پرست قوتوں کے ساتھ نرمی برتی گئی ، آئین وقانون کے مطابق ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی سے گریز کیا گیا جس کے نتیجہ میں فرقہ پرست طاقتوں کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع ملا، مہاتماگاندھی کے قتل کے پیچھے فرقہ پرست طاقتوں کا ہاتھ تھا ،اگر اسی وقت فرقہ پرستی کے سرکو کچل دیاجاتاتوملک کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکتاتھا ، تقسیم کے بعد ملک بھرمیں جب مسلم کش فسادات شروع ہوئے تو انہیں روکنے کے لئے مہاتماگاندھی نے برت رکھا ، فرقہ پرست طاقتوں یہاں تک کہ کانگریس میں موجود بعض بڑے لیڈروں کو یہ بات اچھی نہیں لگی وہ ان کے خلاف ہوگئے ، بالآخرانہیں موت کے گھاٹ اتاردیاگیا ، ہماری نظرمیں مہاتماگاندھی جیس عظیم شخصیت کا قتل ملک کے سیکولرازم کا قتل تھا ، مگرافسوس اس وقت کانگریس کی قیادت کو جوکرنا چاہئے تھا وہ اس نے نہیں کیا ، جمعیۃعلماء ہند کی قیادت مسلسل کانگریس کی قیادت سے یہ مطالبہ کررہی تھی کہ فرقہ پرستی کے اس جنون کو روکئے مگرافسوس اس مطالبہ پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں دی گئی جس سے فرقہ پرستوں کو شہہ مل گئی ، آج کی نسل اس تاریخ سے بھی لاعلم ہے کہ آزادی سے قبل ہی جمعیۃعلماء ہند کے اکابرین نے کانگریس لیڈروں سے ایک تحریری وعدہ لے لیا تھا کہ آزادی کے بعد ملک کا آئین سیکولرہوگا، جس میں تمام مذہبی اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوگی ، لیکن آزادی کے بعد جب ملک تقسیم ہوا تو کانگریس لیڈروں کا بھی ایک بڑاحلقہ ان دوسرے لیڈروں کے اس مطالبہ میں شریک ہوگیا کہ اب جبکہ مسلمانوں کے لئے مذہب کے نام پر ایک نیا ملک بن چکاہے ، ہمارے ملک کاآئین سیکولرنہیں ہوناچاہئے ، اس موقع پر جمعیۃعلماء ہند کی قیادت کانگریس لیڈروں کا ہاتھ پکڑکر بیٹھ گئی اوران سے کہا کہ اگر ملک تقسیم ہواہے تو اس کے مسودہ پر ہم نے نہیں آپ نے دستخط کئے ہیں ، اس لئے آپ اپنا وعدہ پوراکریں چنانچہ ایک سیکولرآئین تیارہوالیکن فرقہ پرستی کی جڑیں اندرہی اندرگہری ہوتی گئیں، جمعیۃعلماء ہند کے مسلسل اصرارکے بعدبھی اس پر نکیل نہیں ڈالی گئی ، جبکہ اس وقت مرکز اورتمام صوبوں میں کانگریس کی ہی حکومت تھی، اگر وہ چاہتی تو اس کے خلاف سخت قانون سازی کرسکتی تھی، مگر اس نے جو لچک دارپالیسی اختیارکی تھی اس کے نتیجہ میں فرقہ پرست طاقتیں اورطاقتورہوتی گئیں ،
ملک کی آزادی میں قربانی دینے والے ہمارے بزرگوں نے جس ہندوستان کا خواب دیکھاتھا وہ یہ ہرگزنہیں،ہمارے بزرگوں نے ایک ایسے ہندوستان کا خواب دیکھاتھا جس میں بسنے والے تمام لوگ ہمیشہ کی طرح نسل، برادری اورمذہب سے اوپر اٹھ کر امن وآتشی کے ساتھ رہ سکیں۔ آزادی ہی نہیں ملک کی کوئی بھی تاریخ ہندوستان کے علماء کرام کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ہے، ہندوستان کی آزادی کی تحریک علماء اورمسلمانوں نے شروع کی تھی یہاں کے عوام کو غلامی کا احساس اس وقت کرایاتھا جب اس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا، ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے علم بغاوت ہندوستان کے سب سے بڑے عالم شاہ عبدالعزیزدہلوی ؒنے اپنے مدرسہ سے ہی بلند کیا تھا، ہمارے اکابرین اورعلماء نے آزادی وطن کا صورتب پھونکاتھا جب دوسری قومیں سورہی تھیں، ہم ملک کی اصل تاریخ سے دانستہ چشم پوشی کرنے والوں کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ جابر انگریزحکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنے والے یہ ہمارے اکابرین ہی تھے جنہوں نے کابل میں ایک جلاوطن ہندوستانی حکومت قائم کی تھی اور اس حکومت کا صدرایک ہندوراجہ مہندرپرتاپ سنگھ کو بنایاگیاتھا، کیونکہ ہمارے اکابرین مذہب سے بالاترہوکر محض اتحاداور انسانیت کی بنیادپر اس ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزادکرانے کے حق میں تھے، وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ ہندوؤں،سکھوں اورمسلمانوں کو ایک ساتھ لائے بغیر یہ خواب پورانہیں ہوسکتا، چنانچہ جب شیخ الہند مالٹاکی جیل سے رہاہوکرباہر آئے توانہوں نے زوردیکر یہ بات کہی کہ ملک کی آزادی کامشن تنہامسلمانوں کی کوشش سے پورانہیں ہوسکتا، بلکہ اگر انگریزوں کے چنگل سے ملک کو باہر نکالناہے تو آزادی کی تحریک کو ہندومسلم تحریک بنانا پڑیگا، انہوں نے یہ بھی فرمایاتھا کہ اگر خوش قسمتی سے سکھوں کی جنگجوں قوم بھی ساتھ آجائے تو آزادی وطن کی راہ اوربھی زیادہ آسان ہوجائے گی، شیخ الہند کا یہ مقولہ کتابوں میں محفوظ ہے، ہمارے اکابرین ہندومسلم اتحادکے راستہ پر آگے بڑھے اورملک کوانگریزوں کی غلامی سے آزادکرایا، بدقسمتی یہ ہوئی کہ ملک آزادہوگیا اورتقسیم بھی ہوگیا اوریہ تقسیم تباہی وبربادی کا سبب بن گئی، اوریہ کسی ایک مخصوص قوم کے لئے نہیں بلکہ ہندوؤں اورمسلمان سب کے لئے بربادی کاسبب بن گئی ، اگر تقسیم نہ ہوئی ہوتی اوریہ تینوں ملک ایک ہوئے ہوتے توآج یہ صورتحال ہرگزنہ ہوئی ہوتی۔ اگریہ طاقت ایک ہوتی تو دنیاکی کوئی طاقت ہماری طرف آنکھ اٹھاکر دیکھنے کا حوصلہ نہیں کرسکتی تھی، اس طویل جدوجہد آزادی کے بعد سیکولردستورسازی میں ملک کی فعال ومتحرک جماعت جمعیۃعلماء ہند کا جو قائدانہ کرداررہاہے وہ ہر اعتبارسے تاریخی ہے۔یہی وجہ تھی کہجیسے جیسے ملک کی آزادی کے امکانات روشن ہوتے گئے ہمارے علماء اس وقت کی اعلیٰ قیادت جیسے موتی لال نہرو، مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرووغیرہ سے برابر عہد لیتے رہے کہ ملک کی آزادی کے بعد ملک کا دستور سیکولر دستور بنے گا اور کانگریس قیادت بھی اس بات کی یقین دہانی کراتی رہی کہ مسلمانوں کی مسجدیں، مسلمانوں کے مدرسے، مسلمانوں کے امام باڑے، مسلمانوں کے قبرستان، مسلمانوں کی زبان، مسلمانوں کا کلچرل، مسلمانوں کی تہذیب یہ تمام چیزیں محفوظ رہیں گی، لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ ملک آزاد ہوا اور ہمارے اکابرین کے نظریہ کے خلاف تقسیم بھی ہوگیا،یایہ کہ تقسیم کردیاگیا، اگر اس وقت کے ہمارے اکابرین ایسی درو اندیشی سے کام نہ لیتے اور ذرا بھی کمزور پڑجاتے تو آج یہ ملک جمہوری ملک نہ ہوکرایک ہندو اسٹیٹ ہوتا اور تب شاید ملک کی بے شمار مذہبی اور زبانی اقلیتیں بشمول مسلمان اپنے مذہبی حقوق سے محروم رہتیں۔لیکن افسوس موجودہ حکومت، وقف ترمیمی بل لاکر ان مسجدوں، مقبروں، قبرستانوں،امام باڑوں اور اوقاف کی ان جائدادوں کوہڑپ لیناچاہتی ہے جس کے تحفظ کا آزادی کے وقت ہندوستان کے سیکولر آئین اوردستور میں وعدہ کیا گیا تھا۔آج جو لوگ ہماری حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں وہ بتائیں کہ ان کے لوگوں نے ملک کی آزادی کے لئے کیا کیا؟ انہوں نے کونسی پھلی پھوڑی؟۔ پہلے ہم نے ملک کی آزادی کے لئے قربانیاں دیں مگر اب ایسا لگتا ہے کہ ہمیں اس آزادی کی تحفظ کے لئے بھی قربانی دینی ہوگی،اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو وہ دن دور نہیں جب لب کشائی کو بھی ایک سنگین جرم قرار دیا جانے لگے گا۔
جمعیۃعلماء ہند کا ماضی اورحال شاہد ہیں کہ اس نے ہمیشہ ملک کے اتحاد،یکجہتی اورسالمیت کو برقراررکھنے کے لئے مثبت کوششیں کی ہیں، اورتقسیم ملک کی مخالفت کی ہے ،ہمارے گلے میں جوتے کے ہارڈالے گئے، ہمارے اوپرکفرکے فتویٰ لگائے گئے لیکن جمعیۃعلماء ہند بال برابربھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی، ہمیں ملک کے آئین سے اس لئے محبت ہے کہ یہ ملک کے اتحاد، یکجہتی اورسالمیت کی وہ دستاویز ہے جس کی روشنی میں ہم ملک کے مستقبل کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ اسے ایک خوشحال اورپوری دنیا کے لئے ایک مثالی ملک بناسکتے ہیں، ہماری نظرمیں آئین جمہوریت کی بنیادکاوہ پتھرہے کہ اگراسے اس کی جگہ سے ہلایا گیا توپھر جمہوریت کی یہ عظیم عمارت بھی کھڑی نہ رہ سکے گی، اس لئے ہم اکثرکہتے ہیں کہ آئین بچے گاتوملک بچے گا ، پچھلے کچھ برسوں کے دوران ملک میں جو یک رخی سیاست کی جارہی ہے اس نے آئین کے وجودپر سوالیہ نشان لگادیاہے بظاہر آئین کی قسمیں کھائی جاتی ہیں، اس کا قصیدہ بھی پڑھاجاتاہے لیکن سچائی یہ ہے کہ آئینی احکامات کی صریحا خلاف ورزی کرکے ملک کی اقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں کو نت نئے حربوں سے پریشان کیاجارہاہے، ایسے میں ہماری ہی نہیں ملک کے ان تمام شہریوں کی جو ملک کے آئین اورجمہوریت میں یقین رکھتے ہیں یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کوبچانے کے لئے آگے آئیں کیونکہ اگر آئین کی بالادستی ختم ہوئی توپھر جمہوریت بھی زندہ نہیں رہ سکے گی۔ آپ شدت سے محسوس کریں گے کہ مذہبی منافرت اورشدت پسندی کو ہر سطح پر بڑھاوادیاجارہاہے، اتحاداوریکجہتی کو ختم کرنے کے لئے دلوں میں نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں، ایک مخصوص فرقہ کو نشانہ بنانے کی غرض سے آئے دن نئے نئے قانون بنائے جارہے ہیں،انصاف کا گلاگھونٹاجارہاہے اوردستورکی بالادستی کو ختم کرکے انصاف اورقانون کی حکمرانی کی جگہ آمرانہ رویہ اختیارکرکے لوگوں میں خوف ودہشت پھیلائی جارہی ہے،آج جس آزادی اورجمہوریت کا پوری دنیامیں زورشورسے ڈھنڈھوراپیٹاجارہاہے یہ ہمارے اکابرین اوراسلاف کی طویل جدوجہد اورقربانی کا نتیجہ ہے، جمعیۃعلماء ہند کابنیادی مقصدملک میں جمہوریت کی سربلندی اوردستورکے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ امن وآشتی اورباہمی اخوت ومحبت کی صدیوں پرانی روایت کو نئی زندگی دینا ہے۔ کسی بھی مہذب اورترقی یافتہ سماج کے لئے عدل وانصاف اورامن وامان سب سے بڑاپیمانہ ہوتاہے، ہر حکمراں کابنیادی فرض اپنی رعایا یعنی عوام کو انصاف مہیاکرانا ہوتاہے، لیکن افسوس اس کی جگہ فرقہ پرست لوگوں کی متعصب ذہنیت ایک مخصوص فرقہ کو دیوارسے لگادینے کی دانستہ سازش کررہی ہے، نوجوانوں کو تعمیری کاموں میں لگانے کے بجائے تخریب اورنفرت کا آلہ کاربنایاجارہاہے،متعصب میڈیا جھوٹ اوراشتعال پھیلانے کا سب سے بڑاذریعہ بن گیاہے یہ کس قدرمضحکہ خیزہے کہ ایک طرف آئین کی قسمیں کھائی جاتی ہیں دوسری طرف آئین کے رہنمااصولوں کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، ایک مخصوص فرقہ کے ساتھ کچھ اس طرح کا سلوک برتاجارہاہے گویااس کے پاس اب کوئی آئینی اختیارنہیں رہا،ملک کی اقلیتوں کو مطمئن کرنا کسی بھی حکمراں کی ذمہ دارہوتی ہے، مگر ہویہ رہاہے کہ ملک کے سیکولرکردار پرمسلسل حملے ہورہے ہیں، مدارس پرقدغن لگائی
جارہی ہے،مساجدکوشہیدکیاجارہاہے، مذہبی آزادی ختم کی جارہی ہے، کھانے پینے پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں، یہاں تک کہ ہم سے ہمارے جینے کا حق بھی چھیناجارہاہے،اور یہ سب تب ہورہاہے جب وہ سیکولر آئین اب بھی اصل شکل میں موجودہے جس میں ملک کی اقلیتوں کو خصوصی اختیارات ہی نہیں مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت بھی دی گئی ہے، یہی وہ سیکولرآئین ہے جس کے لئے ہمارے اکابرین ڈیڑھ سوسال تک ملک کو غلامی سے آزادکرانے کے لئے قربانیاں دیتے رہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ خودکو سیکولرکہنے والی بعض سیاسی پارٹیاں محض اقتدار کا فائدہ اٹھانے کے لئے فرقہ پرست طاقتوں کی درپردہ معاونت اورحمایت کررہی ہیں جوکسی طرح بھی ایک مستحکم جمہوریت کے لئے نیک فال نہیں ہے۔نفرت کی سیاست کو عروج حاصل ہوگیا ہے ، ہرسطح پر نفرت کی آبیاری کی جارہی ہے ، جو لوگ ایسا کررہے ہیں ہم صاف طورپر ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ نفرت کی سیاست ملک کے ساتھ وفاداری نہیں بلکہ ملک کے امن وسکون اوراتحادکے ساتھ غداری ہے ، جو لوگ مذہب کے نام پر نفرت پھیلاتے ہیں وہ کبھی مذہب کے نمائندہ نہیں ہوسکتے کیونکہ دنیا کا ہر مذہب امن ،محبت اورباہمی احترام کا پیغام دیتاہے ، اس لئے ملک کے ہرشہری ہندواورمسلمان وغیرہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ فرقہ پرستی کے مقابلہ امن ، اتحاداوربھائی چارہ کو بڑھاوادے اورنفرت کی سیاست کے خلاف کھل کر سامنے آئے کیونکہ اب حالات جس قدردھماکہ خیز ہوچکے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے اگراب بھی خاموشی اختیارکی گئی تو نفرت کی یہ سیاست ملک کے امن واتحادکے لئے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے..







Comments