top of page

جو لوگ اپنے ملک کی آزادی کے لیے جہاد کررہے ہیں انکے نام مولانا نعمت اللہ صاحب کا خط


بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرات ذمہ داران حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’حکم ہوا ان لوگوں کو جن سے کافر لڑتے اس واسطے کہ ان پر ظلم ہوا ، اور اللہ ان مدد کرنے پر قادر ہے۔‘‘ القدس اور فلسطین کی سرزمین کو صیہونیوں کے قبضہ سے آزاد کرانے کی آپ کی زبردست کوششوں میں خدا آپ کو زبردست فتح عطا فرمائے، کیونکہ یہ سرزمین شرعی اور قانونی طور پر اور تورات کی روشنی میں بھی آپ کی سرزمین ہے ۔ صیہونیوں کے خلاف مزاحمت میں اپنی جان و مال کی قربانی کے ساتھ ساتھ، ہم آپ کی توجہ آپ کے فریضۂ دعوت کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں، جیسا کہ خود پیغمبر ﷺ نے خیبر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ ان کے سامنے اسلام پیش کیاتھا۔ نیز، بہت سی احادیث میں ذکر ہے کہ بنی اسحاق سے ہزاروں کی تعداد میں یہودی مسلمان ہوں گے، اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ ​​میں حصہ لیں گے، اور ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ اس عمل ِ دعوت کی نتیجے میں یہ سعادت حاصل کریں اور اسلام کے جھنڈے کے نیچے آجائیں، ان شاء اللہ ۔ ہم نے جو یہ کہا کہ زمین شرعی اور قانونی طور پر آپ لوگوں کی ہے، یہ بدیہی طور پر ظاہر ہے اور خود تورات کی نصوص سے بھی یہی واضح ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد سے عہد کیا تھا کہ وہ انہیں کنعان کی تمام سرزمین کا مالک بنادے گا۔یہ عہد جیسا کہ بنو اسحاق کے لئے تھا، اسی طرح بنو اسمٰعیل کے لئے بھی تھا، اور یہ عہد حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبان سے اس طرح پورا ہوا، کہ جب مصر میں ان کے انتقال کا وقت قریب ہوا ، تو انھوں نے اپنی اولاد سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں اس کی خبر دوں جو تم کو آخری زمانے میں پیش آنے والا ہے۔چناں چہ انھوں نے سب کے بارے میں کچھ کہا۔ پھر یہود اکے بارے میں کہا: حکومت اس سے الگ نہیں ہوگی اور اقتدار اس کی اولاد سے ختم نہیں ہوگا جب تک شیلو (یعنی آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نہ آجائیں۔ تورات میں آیا ہے کہ خدا نے ابراہیم اور ان کی اولاد سے عہد کیا تھا کہ وہ کنعان کی تمام سرزمین ان کو ہمیشہ کے لیے دے دے گا، اور یہ عہد جس طرح بنی اسحاق کے لیے تھااسی طرح بنی اسماعیل کے لئے بھی تھا۔ ذیل میں میں تورات کی عبارتوں سے اس کی وضاحت پیش کرتا ہوں: ’’1 سارائی اَبرام کی بیوی تھی۔ اُس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ سارائی کی ایک مصری خادمہ تھی۔ اُس کا نام ہاجرہ تھا۔ 2 سارائی نے اَبرام سے کہا، " خداوند نے مجھے اولاد ہونے کا موقع ہی نہ دیا۔ اس لئے میری لونڈی ہاجرہ کے پاس جا۔ اور اُس سے جو بچہ پیدا ہو گا میں اسے اپنے ہی بچے کی مانند قبول کر لوں گی۔" تب اَبرام نے اپنی بیوی سارائی کا شکریہ ادا کیا۔ 3 اَبرام کےکنعان میں دس برس رہنے کے بعد یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اَبرام کی بیوی سارائی نے ہا جرہ کو، اَبرام کو اس کی بیوی بننے کے لئے دیا۔( ہا جرہ مصر کی لونڈی تھی۔) 4 اَبرام نے ہاجرہ سے جسمانی تعلقات قائم کیے اور وہ حاملہ ہو ئی۔ اس کے بعد ہا جرہ اپنی مالکہ کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگی۔ 5 تب سارائی نے اَبرام سے کہا کہ اس کے نتیجہ میں جو بھی ناساز گار حالات پیدا ہوئے ہیں۔ اُس کی تمام تر ذمّہ داری تیرے سر ہے۔ میں نے اسے تیرے حوالے کر دیا ہے۔ اور وہ اب حاملہ ہے۔ اور مجھے حقیر جان کر دھُتکار دیتی ہے۔ اور سوچتی ہے کہ وہ مجھ سے بہتر ہے۔ اب خداوند ہی فیصلہ کرے گا کہ ہم میں کون صحیح ہے۔ 6 اِس بات پر اَبرام نے سارائی سے کہا، " تُو تو ہاجرہ کی مالکہ ہے۔ تو جو چاہے اُس کے ساتھ کر سکتی ہے۔ " اِس لئے سارائی نے ہاجرہ کو ذلیل کیا۔ اور وہ بھاگ گئی۔ 7 خداوند کا فرشتہ ہا جرہ کو ریگستان میں چشمہ کے پاس نظر آیا۔ اور وہ چشمہ شور کی طرف جانے والے راستے کے کنا رے تھا۔ 8 فرشتے نے اُس سے کہا کہ اے ہاجرہ تو سارائی کی لونڈی ہونے کے باوجود یہاں کیوں ہے ؟ اور پو چھا کہ تُو کہاں جا رہی ہے ؟ ہاجرہ نے کہا کہ میں مالکہ سارائی کے پاس سے بھا گ رہی ہوں۔ 9 خداوند کا فرشتہ ہاجرہ سے کہا کہ سارائی تو تیری مالکہ ہے۔ تُو اُس کے پاس لوٹ کر جا اور اُس کی بات مان۔ 10 اِس کے علاوہ خداوند کے فرشتے نے ہاجرہ سے کہا، " میں تیری نسل کے سلسلہ کو بہت بڑھاؤں گا۔ وہ اتنی ہوں گی کہ گِنی نہیں جائیں گی۔" 11 مزید فرشتے نے اُس سے کہا، " اے ہاجرہ اب تُو حاملہ ہو گئی ہے۔ اور تجھے ایک بیٹا پیدا ہو گا۔ تو اس کا نام اِسمٰعیل رکھنا۔ اِس لئے کہ خداوند نے تیری تکالیف کو سُنا ہے۔ اور وہ تیری مدد کرے گا۔ 12 " اِسمٰعیل جنگلی گدھے کی طرح مضبوط اور آ زاد ہو گا۔ اور وہ ہر ایک کا مخالف ہو گا اور ہر ایک اُس کا مخالف ہو گا۔ وہ اپنے بھا ئیوں کے قریب خیمہ زن ہو گا۔" 13 خداوند نے خود ہاجرہ کے ساتھ باتیں کیں۔ اس وجہ سے ہاجرہ نے کہا، " اِس جگہ بھی خدا مجھے دیکھ کر میرے بارے میں فِکر مند ہوتا ہے۔ " اس لئے اس نے اس کو نیا نام دیا، " خدا مجھے دیکھتا ہے " ہاجرہ نے کہا، " میں نے خدا کو یہاں دیکھا ہے لیکن میں اب تک زندہ ہوں! اس لئے انہوں نے خدا کو نیا نام دیا، " خدا جو مجھے دیکھتا ہے۔ " 14 اِس وجہ سے اُس کنواں کام نام بیر لحی روئی ہو گیا۔ وہ کنواں قادِس اور بِرد کے درمیان ہے۔ 15 ہا جرہ نے اَبرام کے بیٹے کو جنم دیا۔ اور اَبرام نے اُس بیٹے کا نام اِسمٰعیل رکھا۔ 16 اَبرام جب چھیاسی برس کے ہوئے تو ہاجرہ سے اِسمٰعیل پیدا ہوئے۔‘‘ [پیدائش 16/1-15] اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ ابراہیم سے بات کرتے ہوئے فرمایا: ’’5 تیرا نام اَبرام کے بجائے ابراہیم رکھتا ہوں۔ اب اِس کے بعد تجھے اِبراہیم ہی پُکاریں گے۔ اس لئے کہ اِس کے بعد کئی نسلوں کے لئے تیری حیثیت جدِّ اعلیٰ کی ہو گی۔ 6 میں تمہیں بہت ساری نسلیں دوں گا۔ پوری قوم اور تمام بادشاہ تم ہی میں سے آئیں گے۔ 7 تیرے ساتھ ایک معاہدہ کروں گا۔ اور یہ معاہدہ تیری تمام نسلوں کے لئے ہو گا۔ یہ معاہدہ ہمیشہ کے لئے رہے گا۔ میں تیرا اور تیری نسلوں کا خدا ہوں گا۔ 8 تُو جس کنعان کی طرف سفر کر رہا ہے وہ تجھے تیری ساری نسلوں کو ہمیشہ کے لئے دُوں گا۔ اور کہا کہ میں ہی تمہارا خدا ہوں۔" 9 اِس کے علا وہ خدا نے ابراہیم سے کہا، " ہما رے معاہدے کے مُطابق تمہیں اور تمہاری نسل کو ہمارے تمام معاہدے کا شکر گذار ہو نا چاہئے۔ 10 تو اور تیری نسل اس معاہدے کی ضرور پاسداری کرے کہ ہر ایک مَرد کا ختنہ ضرور کیا جانا چاہئے۔ 11 تم اپنے چمڑے کو کاٹ ڈالو گے یہ دکھانے کے لئے کہ تم معاہدہ کی پاسداری کرتے ہو۔‘‘ [پیدائش 17/5-11] اور دوسری جگہ ہے کہ: ’’23 اسی دن ابراہیم نے اسمٰعیل کا، اہل خانہ کے تمام نرینہ کا، چا ہے وہ ان کے گھر پیدا ہوئے نوکر ہوں یا زر خرید غلام ہو، خدا کے حکم کے مطابق ختنہ کر وایا۔ 24 ابراہیم کا جب ختنہ ہوا تو وہ ننانوے برس کے تھے۔ 25 اور جب اسمٰعیل کا ختنہ ہوا تو وہ تیرہ برس کے تھے۔ 26 ابراہیم کا اور اس کے بیٹے اسمٰعیل کا ختنہ ایک ہی دن ہوا۔‘‘[پیدائش 17/ 23-26] "2 سارہ عمر رسیدہ ابراہیم سے حاملہ ہوئی اور ایک بیٹےکو جنم دیا۔ یہ سب کچھ ٹھیک اسی وقت ہوا جس کے بارے میں خدا نے کہا تھا کہ ہو گا۔ 3 سارہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ ابراہیم نے اس کا نام اسحاق رکّھا۔ 4 جب اِسحاق کو پیدا ہوئے آٹھ دِن ہوئے تھے، خدا کے حکم کے مُطابق ابراہیم نے اس کا ختنہ کر وایا۔‘‘ [پیدائش 21/2-4] 9 پہلے پہل مصر کی لونڈی ہا جرہ کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا۔ اور ابراہیم اُس کا باپ تھا۔ سارہ نے دیکھا کہ ہاجرہ کا بیٹا کھیل رہا ہے۔ 10 سارہ نے ابراہیم سے کہا کہ اُس لونڈی کو اور اُس کے بچے کو کہیں دُور بھیج دے۔ تا کہ جب ہم دونوں مر جائیں تو ہماری تمام تر جائیداد کا وارث صرف اِسحاق ہی ہو ۔ اور میں یہ بھی نہیں چاہتی ہوں کہ لونڈی کا بیٹا اِسحاق کے ساتھ وراثت میں حصّے دار ہو۔ 11 ابراہیم کو بہت دُکھ ہو ا۔ اور اپنے بیٹے کے بارے میں فکر مند ہوا۔ 12 لیکن خدا نے ابراہیم سے کہا، " تو اس بچے یا اُس لونڈی کے بارے میں پریشان نہ ہو اور سارہ کی مرضی کے مُطابق ہی کر۔ اِسحاق ہی تیرے خاندانی سلسلہ کو جاری رکھے گا۔ 13 لیکن میں تیری لونڈی کے بیٹے کے خاندان سے ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ کیونکہ وہ تمہارا بیٹا ہے۔ " [پیدائش 21/9-13] (اس کے بعد سیندا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے۔ ) حضرت اسمٰعیل علیہ السلام مکہ سے اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس ملنے جاتے تھے، اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل سے ملنے کے لئے آتے تھے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹوں اسحاق اور اسماعیل نے انہیں مکفیلہ کے غار میں عفرون کے گاؤں میں دفن کیا جو ممرا کے سامنے ہے۔ یہاں انھوں نے اسماعیل کے تمام بچوں کو ان کے ناموں سے یاد کیا۔ لہٰذا خدا نے حضرت اسحاق علیہ السلام اور اس کی اولاد سے جو وعدہ کیا وہی بنی اسماعیل سے بھی ہے۔چناں چہ توریت میں ہے: 1 پھر یعقوب نے اپنے بیٹوں کو اپنے پاس بُلا یا اور ان سے کہا کہ اے میرے تمام بیٹو! میرے پاس آؤ۔ اور میں تمہیں وہ باتیں بتاؤں گا جو پیش آنے وا لی ہیں۔ 2 " اے یعقوب کے بیٹو، سب ایک ساتھ آ کر بیٹھو۔ اور کہا کہ اپنے باپ اسرائیل کا کہنا سُنو۔" [پیدائش 49/1-2] 10 وہ شاہی قوت کو اپنے ہاتھ میں رکھے گا جب تک کہ وہ [شیلو] آ نہیں جاتا جو اس کا جانشیں ہو گا۔ [پیدائش 49/10] (یہاں عربی عبارت میں شیلو کا لفظ ہے جس سے عمومی طور پر آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو مراد لیا گیا ہے۔ ) بنی اسحاق میں یہودا کی اولاد کی حکومت رہی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ چناں چہ اولاً انہیں وہاں سے نکال دیا گیا، اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کے دور میں انہوں نے اس پر قبضہ کیا، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے بعدبخت نصر انہیں وہاں سے نکال کر بابل لے گیا ، جہاں وہ آباد ہوئےاور یروشلم میں واپسی سے روک دیا۔ پھر ایرانی بادشاہ خسرو نے انہیں یروشلم میں آبادہونے کا اختیار دیا اور دارا نے ان کے وہاں قیام کا نظم و اہتمام کیا۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے بعد ، رومیوں کے ہاتھوں انہیں یروشلم سے نکالا گیا اور انہیں پھر یروشلم میں آباد ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، یہاں تک کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کے دور میں یروشلم مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہو ا۔ یروشلم کے حاکم نے کہا کہ اپنے بادشاہ سے ہمیں ملاؤ ، تاکہ ہم اسے دیکھ سکیں اور اس سے سمجھوتہ کر لیں۔ چنانچہ صلح نامہ لکھا گیا اور اس میں یہ شرط رکھی گئی کہ یہاں یہودی آباد نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد سے یروشلم پر بنی اسماعیل کے لوگوں نے حکومت کی، یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم میں ترکی کو شکست ہوئی، مصر فرانس کے زیر تسلط، اور فلسطین برطانیہ کے زیر تسلط آگیا، اور یہاں تک کہ اس وقت کے امریکی صدر نے کہا: میں اس زمانے کا خسرو ہوں، میں انہیں یہیں آباد کروں گا، میں اس کی ذمہ داری اٹھاؤں گا، اور یہودی اب اس زمین پر آباد ہوں گے۔ اگر آپ حضرات پاپائے اعظم سے التماس کر سکتے ہیں، تو ان سے مکمل احترام کے ساتھ التماس کریں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قریب ہے، چناں چہ یہودیوں کے سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ تمہارا ان سے کیا تعلق ہے؟ اگرچہ یہ لوگ حقیقی مسیح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو مسیح دجال کہتے ہیں، لیکن اصل دجال کو مسیحا کہیں گے، اور پوری دنیا کے یہودی اس کا (دجا ل کا ) ساتھ دیں گے ۔اگر آپ اس اہم مسئلے سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، تو آپ یسوع مسیح کے اترنے کے بعد ان کا سامنا کیسے کریں گے ؟ اسی لئے ، آپ سے درخواست ہے کہ جو لوگ آپ سے متفق ہیں ان کے سامنے اس اہم مسئلے کی وضاحت کریں، اور اس قضیہ کو گہرائی سے سمجھائیں۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

نعمت الله الأعظمي أستاذ الحديث بالجامعة الإسلامية:دارالعلوم/ديوبند، الهند

2,888 views0 comments

Comments


bottom of page