What we have to do in the current situation



The way in which some people are deliberately creating controversy over small things and the way in which the country's biased media is stirring up such controversies and creating a stir in the whole country, it is necessary to cut it. The status of Muslims should come forward and set up separate higher educational institutions for their children with their own money so that the boys and girls of the nation can get education with their cultural and religious identity and this should be our practical endeavor. Non-Muslims should also send their daughters for education in educational institutions. This will not only strengthen our mutual unity but will also clear up many misconceptions created regarding Muslims.

Maulana Arshad Madani

President Jamiat Ulama-e-Hind


جس طرح چھوٹی چھوٹی چیزوں کو لیکر کچھ لوگ دانستہ تنازعہ کھڑا کر رہے ہیں اور جس طرح ملک کا جانب دار میڈیا اس طرح کے تنازعات کو ہوا دیکر پورے ملک میں ایک ہیجان سا برپا کر دیتا ہے اس کی کاٹ کے لئے یہ ضروری ہے کہ صاحبِ حیثیت مسلمان آگے آئیں اور اپنے پیسوں سے اپنے بچے اور بچیوں کے لئے الگ الگ اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کریں تاکہ قوم‌کے بچے اور بچیاں اپنی تہذیبی اور مذہبی شناخت کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں اور یہ ہماری عملی کوشش بھی ہونی چاہیے کہ اس طرح کے ہمارے تعلیمی اداروں میں غیر مسلم بھی اپنی لڑکیوں کو تعلیم‌ کے لئے بھیجیں، اس سے نہ صرف ہمارا‌ باہمی اتحاد مضبوط ہوگا بلکہ مسلمانوں کے تعلق سے وابستہ پیدا کی گئی بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہو جائے گا۔

(مولانا) ارشد مدنی

صدر جمعیت علماء ہند





807 views0 comments