top of page

فسطائی جماعتوں اور ان کے حامیوں کا یہ خیال ہے کہ ان کے اس جبروظلم کے آگے مسلمان سرنگوں ہو جائیں گے !


جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مولانا سید ارشد مدنی صاحب نے کہا ہے کہ :

ایک طرف جہاں مذہبی شدت پسندی کو ہوادینے اور عوام کے ذہنوں میں منافرت کا زہر بھرنے کا مذموم سلسلہ پورے زوروشورسے جاری ہے، وہیں دوسری طرف مسلمانوں کو تعلیمی اورسیاسی طورپر بے حیثیت کردینے کے خطرنا ک منصوبہ کابھی آغازہوچکاہے، مولانا مدنی نے کہا کہ پچھلے چند برسوں کے دوران ملک کی اقتصادی اورمعاشی حالت حددرجہ کمزورہوئی ہے اوربے روزگاری میں خطرناک حدتک اضافہ ہوچکاہے مگراس کہ باوجود اقتدارمیں بیٹھے لوگ ملک کی ترقی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور اس مہم میں جانبدارمیڈیا ان کاکھل کرساتھ دے رہاہے، انہوں نے کہا کہ اقتصادی اور بے روزگاری کے مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے ہی مذہبی شدت پسندی کو بڑھاوادیا جارہا ہے، مولانا مدنی نے آگے کہاکہ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیادپر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ کھیل ملک کو تباہ کردے گا، مذہب کا نشہ پلاکربہت دنوں تک حقیقی مسائل سے گمراہ نہیں کیا جاسکتا، روٹی،کپڑااورمکان انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں اس لئے منافرت کی سیاست کو بڑھاوادینے کی جگہ اگر روزگارکے وسائل نہیں پیداکئے گئے، پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں نہیں دی گئیں تووہ دن دورنہیں کہ جب ملک کی نوجوان نسل سراپااحتجاج ہوکر سڑکوں پر نظرآئے گی..


اتراکھنڈکے ہری دوار میں ریلوے ٹریک کو چوڑاکرنے کی آڑمیں 43 سومسلم اورکچھ غیرمسلم خاندانوں کو بے گھر کردینے کی مہم شروع ہوچکی ہے ہر چند کے سپریم کورٹ نے عبوری اسٹے دیا ہے لیکن خطرہ بدستور برقرار ہے، انہوں نے کہا کہ یہ کیا انصاف ہے کہ دہائیوں سے آبادلوگوں کو بے گھر کردیاجائے، انہیں مناسب معاوضہ بھی نہ دیاجائے اور ان کی بازآبادکاری کے لئے متبادل زمین بھی مہیانہ کی جائے، ملک میں تیزی سے پھیل رہے ارتدادکے فتنہ کو خطرناک قراردیتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف اسے منصوبہ بند طریقہ سے شروع کیا گیا ہے،جس کے تحت ہماری بچیوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے، اگر اس فتنہ کو روکنے کے لئے فوری موثرتدبیر نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں صورتحال دھماکہ خیز ہوسکتی ہے، انہوں نے زوردیکر کہا کہ اس فتنہ کو مخلوط تعلیم کی وجہ سے تقویت مل رہی ہے اورہم نے اسی لئے اس کی مخالفت کی تھی، اورتب میڈیا نے ہماری اس بات کو منفی اندازمیں پیش کرتے ہوئے یہ تشہیر کی تھی کہ مولانا مدنی لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں، جبکہ ہم مخلوط تعلیم کے خلاف ہیں،لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں، مولانا مدنی نے کہاکہ ملت کی فلاح وبہبوداور ان کی تعلیمی ترقی کے لئے اب جو کچھ کرنا ہے ہمیں ہی کرنا ہے، مولانا مدنی نے کہاکہ ملک کی آزادی کے بعد ہم بحیثیت قوم تاریخ کے انتہائی نازک موڑپر آکھڑے ہوئے ہیں،ہمیں ایک طرف اگر طرح طرح کے مسائل میں الجھایا جارہا ہے تودوسری طرف ہم پر اقتصادی، سماجی، سیاسی اورتعلیمی ترقی کی راہیں بندکی جارہی ہیں، اس خاموش سازش کو اگر ہمیں ناکام کرنا ہے اورسربلندی حاصل کرنا ہے توہمیں اپنے بچوں اوربچیوں کے لئے الگ الگ تعلیمی ادارے خودقائم کرنے ہوں گے، انہوں نے آخرمیں کہاکہ قوموں کی تاریخ شاہد ہے کہ ہردورمیں ترقی کی کنجی تعلیم رہی ہے، اس لئے ہمیں اپنے بچوں کو نہ صرف اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کرنا ہوگابلکہ ان کے اندرسے احساس کمتری کو باہر نکال کر ہمیں انہیں مسابقتی امتحانات کے لئے حوصلہ دینا ہوگا اورہم اسی صورت سے اپنے خلاف ہونے والی ہر سازش کا منہ توڑجواب دے سکتے ہیں۔


@ArshadMadaniOfficial007

143 views0 comments
bottom of page