top of page

صحابہ کا جو غلام تھا ہمارا وہ امام تھا


صحابہ کا جو غلام تھا ہمارا وہ امام تھا :

از :محمد مدنی

(مدنی منزل دیوبند)

الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ.


جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالعلیم فاروقی صاحب رحمہ اللہ کی وفات میرے لیے ذاتی طورپر المناک حادثہ ہے، آپ کا وصال کوئی ایسا حادثہ نہیں ہے جس کو معمولی سمجھ لیاجائے بلکہ امت مسلمہ کو خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں کو اس سے ایک کاری زخم لگا ہے جس کی کسک نہ معلوم کب تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ مولانا مرحوم نے اپنے عظیم دادا امام اہل سنت مولانا عبد الشکور لکھنؤی رحمةاللہ علیہ کی صحیح معنی میں جانشینی کی، آپ رحمہ اللہ نے ملک وملت کی فلاح و بہبود کیلئے بڑی جانفشانی سے کام لیا، تاریخ میں ایسی کم شخصیات گزری ہیں کہ جنکی زندگی ایک تحریک رہی ہو.

آپ نے اپنے جد امجد امام اہل سنت رحمہ اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام دیا، دنیا کے کونے کونے میں جا کر آپ نے مسلمانوں کے قلوب کو صحابہ کرام اور اہل بیت کی عظمتوں اور فضیلتوں سے خوب گرمایا اور دشمنان صحابہ روافض کو ہمیشہ دلائل کے میدان میں شکست سے دوچار کرتے رہے. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے سلسلے میں ادنیٰ درجہ کی بھی بے حرمتی کرنے والوں کو شیر کی طرح للکار تے اور دلائل سے انکا منہ بند کردیتے تھے. آخری وقت تک صحابہ کرام کی شان بیان کرتے رہے یہاں تک ہمارے ایک عزیز وفات سے کچھ دن پہلے ان کی عیادت کے لیے گئے تو قرآن شریف پڑھ رہے تھے پڑھتے پڑھتے رکے اور ان سے کہنے لگے کہ جو میں یہ آیتیں پڑھ رہا ہوں یہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کی شان میں نازل ہوئی ہیں، اسی طرح آخری ایام میں یہ کہتے تھے مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر کام کرنا اور ان کی شان میں کتاب لکھنی ہے اور یہ آرزو لئے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے. آپ سوچیں کہ جس شخص کی بستر مرگ پر یہ آرزو رہی ہو اس کا دل صحابہ کا کتنا شیدائی رہا ہوگا.

اسی طرح چھوٹوں سے بے انتہا محبت اور نرم گفتگو کرتے ایسا معلوم ہوتا جیسے کافی عرصہ سے جانتے ہوں، اور مجھ سے انکا تعلق اور لگاؤ کچھ اس طرح تھا کہ لگتا ہی نہیں تھا وہ ہم سے اتنے بڑے ہیں بالکل بے تکلفانہ گفتگو کرتے اور خوب مشورے اور نصیحتیں کرتے، اور کبھی کبھی گفتگو کے دوران مجھ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے جذباتی ہوجاتے تھے وہ الگ ہی سما ہوتا تھا جسکو الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جاسکتا بس اتنا کہہ سکتا ہوں

بات کرتا تھا مختصر مگر

روح کے تار چھیڑ دیتا تھا

اسی طرح میں نے کووڈ کے زمانے میں شیخ الاسلام حضرت مدنی نوراللہ مرقدہ پر ایک آن لائن سیمنار منعقد کیا جس کی آخری نشست میں شرکت کے لئے مولانا مرحوم سے کہا تو فوراً تیار ہوگئے اور خوب دعائیں دیں اور حوصلہ افزائی بھی فرمائی آپ ہر مجلس میں اس سیمنار کا تذکرہ کرتے اور فرماتے تھے کہ اس طرح کے پروگرام ہمارے بزرگوں پر ہوتے رہنے چاہیے.

راقم نے ایک مرتبہ مولانا مرحوم کے متعلق خواب دیکھا کہ ”ایک مجلس ہے جس میں شیخ الاسلام حضرت مدنی حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کاندھلوی مولانا عبدالعلیم فاروقی صاحب رحمھم اللہ اور ایک اور بزرگ تھے جن کا نام ذہن میں نہیں آرہا بیٹھے ہیں“ میں نے یہ خواب جب مولانا مرحوم کو بتایا تو خوب روئے اور کہتے رہے کہ اس ناکارہ کو اُن بزرگوں کے ساتھ دیکھا اور کہا کہ کسی سے مت بتلانا. اللہ اکبر!


اسی طرح دادا محترم (حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ سے بے انتہا محبت تھی اور ایسی محبت کہ جب بھی تذکرہ کرتے تو آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں، اور کہا کرتے تھے کہ مولانا اس پُرفتن دور میں مجدّد ہیں، اور دونو کے درمیان خوب علمی نوک جھونک ہوا کرتی تھی، ایک مرتبہ دادا محترم مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ نے مولانا مرحوم کی دعوت کی دسترخوان پر شہد رکھا ہوا تھا حضرت مدنی مدظلہ نے مولانا مرحوم سے کہا کہ یہ شہد ایران سے آیا ہے تو مولانا مرحوم نے برجستہ جواب دیا فِیْہِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ.

مخدومی حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن رکین اور جمعیت علماء ہند کے پہلے جنرل سکریٹری اور اب نائب صدر تھے، اور اسکے علاوہ بہت سے اداروں اور جماعتوں کے رکن اور سرپرست تھے، اور بہت سی ملی و ملکی تحریکات کے بانی مبانی و مؤسس تھے. آپ کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی. بالآخر صحابہ کرام و اہل بیت اور خلفائے راشدین کا یہ سچا جاں نثار اور حضرت امیر معاویہ کا شیدائی عظمت صحابہ کا جھنڈا بلند کرتا ہوا 24/ اپریل 2024 بروز بدھ بعد فجر اللہ کے حضور پیش ہوگیا.

انا للہ وانا الیہ راجعون.

اللہ تعالیٰ آپ کی ہمہ گیر خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین.

534 views0 comments

Comments


bottom of page